میرپور (سی این آئی) تھانہ تھوتھال، میرپور آزاد کشمیر کے ایس ایچ او کو ایک برطانوی نیشنل کشمیری خاتون کو انکوائری کے نام پر نجی مقام پر لے جا کر ہراساں کرنے، غیر اخلاقی حرکات کرنے اور حبسِ بے جا میں رکھنے کے سنگین الزامات پر معطل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے نے نہ صرف پولیس فورس کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ عوام میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
برطانیہ میں بسنے والے کشمیریوں نے واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے آئی جی آزاد کشمیر سے مطالبہ کیا ہے کہ محض معطلی کافی نہیں بلکہ ایسے بدکردار اور قانون شکن شخص کو فورس سے برخاست کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری پہلے ہی کئی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں، اور جب قانون کے محافظ ہی ان کے ساتھ مجرمانہ رویہ اختیار کریں تو انصاف کی امید کہاں باقی رہتی ہے؟
عوامی حلقوں نے صحافتی تنظیموں کی خاموشی پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ایسے واقعات پر میڈیا کو جاندار کردار ادا کرنا چاہیے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ بیشتر صحافتی ادارے اس معاملے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ یہ خاموشی محض اتفاق ہے یا کسی دباؤ کا نتیجہ؟ یہ سوال عوامی ذہنوں میں گردش کر رہا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب آزاد کشمیر پولیس کے کسی اہلکار پر ایسے سنگین الزامات لگے ہوں، مگر ہر بار معاملے کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے افراد جب عہدے پر ہوتے ہیں تو عوام کو بلیک میل کرتے ہیں، اور جب معطل ہوتے ہیں تو انکوائری کے نام پر انصاف کو تاخیر کا شکار کر دیا جاتا ہے۔
اوورسیز کشمیریوں کا کہنا ہے کہ یہ کیس آزاد کشمیر پولیس کے لیے ایک امتحان ہے۔ اگر اس واقعے میں ملوث پولیس افسر کو صرف معطل کر کے معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک اور مثال ہوگی کہ طاقتور قانون کے شکنجے سے بچ نکلتے ہیں۔ عوام اور اوورسیز کشمیریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملزم کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی سرکاری اہلکار اپنی وردی کی آڑ میں عوام کے حقوق پامال نہ کر سکے۔
کیا آزاد کشمیر کی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعی انصاف فراہم کرنے میں سنجیدہ ہیں؟ یا پھر یہ معاملہ بھی دیگر کیسز کی طرح فائلوں کی گرد میں دب کر رہ جائے گا؟عوامی حلقوں کی طرف سے فون کالز اور مقامی صحافیوں کی خاموشی کے باعث سی این آئی اردو نے حقائق جاننے کے بعد اوورسیز کشمیریوں کے موقف کو لکھ کر اعلی حکام کی توجہ دلائی ہے ۔
#cniurdu #cninewsnetwork #igajk #PMAJK #MirpurAJK #DGISI #DGISPR #DGIB