لندن (سی این آئی) برطانیہ میں شریک حیات کے ویزے کے لیے کم از کم آمدنی کی شرط (MIR) کو بڑھا کر £29,000 کرنے کے فیصلے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ یہ شرط برطانوی شہریوں اور غیر معینہ مدت تک رہنے کی چھٹی (ILR) رکھنے والے افراد پر لاگو ہوتی ہے، جو اپنے غیر ملکی شریک حیات یا پارٹنر کو برطانیہ میں اسپانسر کرنا چاہتے ہیں۔
یہ پالیسی، جو پہلے £18,600 تھی، اپریل 2024 میں نافذ ہونے کے بعد اب £29,000 سالانہ کر دی گئی ہے، جس سے ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ اس اضافے کے خلاف تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ بہت سے لوگ اسے خاندانوں کے اتحاد کے خلاف ایک رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے کم آمدنی والے افراد، خاص طور پر نوجوان اور جزوقتی ملازمین، شدید متاثر ہو رہے ہیں، جو اپنے شریک حیات کو برطانیہ لانے کے اہل نہیں رہتے۔
حکومت برطانیہ کے مطابق، اس پالیسی کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ جوڑے اور خاندان ٹیکس دہندگان پر انحصار کیے بغیر اپنی مالی ضروریات پوری کر سکیں۔ تاہم، ماہرین اقتصادیات اور سماجی کارکنان نے اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فیصلہ برطانیہ کی معیشت اور معاشرتی ہم آہنگی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ڈی اے اے ڈی (DAAD) اسکالرشپ کی ایک رپورٹ کے مطابق، اس پالیسی کے نتیجے میں کئی خاندان علیحدگی کا شکار ہو سکتے ہیں، جبکہ برطانوی معیشت میں بھی غیر ملکی ہنر مند کارکنوں کے داخلے میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، اس پالیسی کا آزادانہ جائزہ جون 2025 میں لیا جائے گا، جس میں اس کے سماجی اور معاشی اثرات کا تجزیہ کیا جائے گا۔ متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا جا رہا ہے۔
یہ دیکھنا باقی ہے کہ آئندہ جائزے میں اس پالیسی میں کوئی نرمی کی جائے گی یا نہیں، لیکن فی الحال، ہزاروں خاندان اس فیصلے سے متاثر ہو رہے ہیں اور اسے اپنے مستقبل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔